بادشاہ کی چھ بیٹیاں[badshah ki kahani]

Photo of author

By اریج

‘badshah ki kahani’ اس کا نام تھا. جہانگیروہ اپنے گاؤں کا سب سے امیر ترین بادشاہ تھا. اس کی چھ بیٹیاں تھی. ایک کا نام عائشہ تھا ایک کا نام خضرا تھا. ایک کا نام قرت تھا. ایک کا نام سنیلا تھا ایک کا نام سمرین تھا ایک کا نام فاطمہ تھا ایک کا نام اریبہ تھا ایک کا نام فضا تھا. وہ چھ بہنیں ایک دوسرے کو بہت پیار کرتی تھی.

badshah ki kahani
badshah ki kahani

جان چھڑکتی

اور ایک دوسرے پر جان چھڑکتی تھی. بادشاہ ان کو دیکھ کے بہت خوش ہوتا تھا.  وہ سب ایک جیسا ہی لباس پہنتی تھی. اور ہر جگہ ایک ساتھ ہی جاتی تھی. اس کے مہر کے ساتھ ایک ظہیرہ نام کی عورت کی جھونپڑی تھی. بادشاہ کی چھ بیٹیوں ظہیرہ بہت بزدل اور ایک تیز عورت تھی.

بہت حسد کرتی 

وہ ہر کسی کے لیے برا چاہتی تھی. اور ہر کسی کے ساتھ برا ہی کرتی تھی. وہ بہت حسد کرتی تھی. اور بادشاہ کی چھ بیٹیوں سے بہت حسد کرتی تھی. اور وہ ان سب کے درمیان درار پیدا کرنا چاہتی تھی. بادشاہ کو ان کی بیٹیوں کے خلاف کرنا چاہتی تھی. مگر بادشاہ اپنی بیٹیوں کے خلاف ایک بھی بات نہیں سنتا تھا. ایک دن اس نے  اس کی چھوٹی بیٹی کو بادشاہ کے خلاف کرنے کی کوشش کی.

بات مان لیتا ہے

اس نے ایک دن بادشاہ کو بھڑکایا. اور کہا کہ تم اپنے چھ بیٹیوں کے پاس جاؤ. اور ان سے پوچھو کہ تمہیں پہننے اور کھانے کے لیے کون دیتا ہے. اور دیکھتے ہیں تمہارے چھ بیٹیاں تمہیں کیا جواب دیتی ہیں. بادشاہ زہیرا کی بات مان لیتا ہے. اور اپنے محل جاتا ہے. اور اپنی نوکری سے کہتا ہے. کہ جاؤ میرے  بیٹیوں کو بلا کے لاؤ اور وہ سب ایک کمرے میں اکٹھے ہوتے ہیں. اور اب بادشاہ  ان سے یہ سوال کرتا ہے.

بادشاہ کی چھٹی بیٹی کے پاس: badshah ki kahani

badshah ki kahani
badshah ki kahani

کہ تمہیں کھانے اور پہننے کے لیے کون دیتا ہے. اس کے سب سے بڑی بیٹی نے جواب دیا کہ بابا ہمیں کھانے اور پہننے کے لیے اپ اسی طرح اس کی پانچویں بیٹیوں نے اسے یہی جواب دیا اور وہ جو چھٹی بیٹی کے پاس گیا. اور وہ چپکڑی تھی کھڑی تھی. اور اسے وہ اسے کہتا ہے. کہ تم جو خاموش کیوں کھڑی ہو. تو کیا تم مجھ سے پیار نہیں کرتی. تو اس پہ بیٹی خاموش رہتی ہے.

بادشاہ badshah ki kahani کو بہت غصہ اتا :

بادشاہ اس سے یہی سوال کرتا ہے. کہ تمہیں کھانے اور پہننے کے لیے کون دیتا ہے. تو وہ لڑکی کہتی ہے کہ مجھے کھانے اور پہننے کے لیے صرف میرا اللہ ہی دیتا ہے. اس بات پہ بادشاہ کو بہت غصہ اتا ہے. اور وہ اپنے سپاہیوں کو کہتا ہے. کہ اسے کسی گھر میں جنگل میں چھوڑا ہو. اور اس کے سپاہی اس کو ایک گھنے جنگل میں چھوڑ دیتے ہیں.

پاگلوں کی کہانیاں[STORY FOR KIDS]

 اللہ میرے ساتھ ہے:

اریبا اپنے اپ کو بہت تنہا محسوس کرتی تھی لیکن وہ اپنے اللہ پر بہت ہی یقین رکھتی تھی. اور وہ کہتی تھی کہ میرا اللہ میرے ساتھ ہے. تو مجھے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں. تو رات ہو جاتی ہے اور وہ سوچتی ہے. کہ مجھے اب لکڑیاں جلانی چاہیے. اگر اگ جلدی ہو تو جنگل کا کوئی جانور میرے پاس نہیں ائے گا وہ لکڑیاں ڈھونڈنے کے لیے جنگل میں تھوڑا سا اگے جاتی ہے.

بادشاہ کا حکم: badshah ki kahani

badshah ki kahani
badshah ki kahani

تو اسے وہاں ایک ایک جھومتی نظر اتی ہے. اور وہ بہت پریشان ہو جاتی ہے۔  کہ اس گھنے جنگل میں جھو بادشاہ کے سپاہی رانی کو جنگل میں چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ ان کے بادشاہ کا حکم تھا کہ بنانے کو ایک گھنے جنگل میں چھوڑ دیا جائے. اور کوئی بھی اسے ملنے کے لیے نہ جائے وہ رانی کو لے جاتے ہیں. اور ایک گنے جنگل میں چھوڑ دیتے ہیں. رانی دل ہی دل میں بہت پریشان ہوتی ہے. لیکن اسے اپنی اللہ پر پورا یقین ہوتا ہے رانی تھوڑا سا اگے بڑھتی ہے.

بہت سے سوال:

اور رات ہو جاتی ہے وہ سوتی ہے کہ دنی جنگل میں میں اکیلی ہوں مجھے لکڑیوں سے اگ جلانی چاہیے تاکہ کوئی جنگلی جانور میرے پاس نہ ائے رانی لکڑیاں ڈھونڈنے کے لیے تھوڑا سا اگے بڑھتے ہیں. تو وہاں اسے ایک جھونپڑی نظر اتی ہے رانی سوتی ہے. کہ اس گھنے جنگل میں بھلا یہ کس کی جھونپڑی ہے اور کون رہ رہا ہے. دانے دل ہی دل میں بہت سے سوال پیدا کرتی ہے لیکن وہ صحیح سوچتی ہے.

ایکbadshah ki kahani  بزرگ ادمی:

کہ شاید کوئی ایسا ہو. یا شاید میری اللہ نے میری مدد کے لیے کوئی سبب لگایا ہو اور مجھے اس جھونپڑی کے اندر جانا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ اس نے جنگل میں اس جھونپڑی کا کیا کام ہے اور اس میں کون رہ رہا ہے. دانی یہ سوچتی ہے اور اسے جھونپڑی میں جاتی ہے. اور جب دیتی ہے کہ وہاں پہ ایکbadshah ki kahani  بزرگ ادمی جس کا نام اشرف تھا وہ پانی کو پکا رہا تھا رانی اس کے پاس اتی ہے. اور اسے پانی پلاتی ہے. اور دیتی ہے کہ اس کے گھر کی حالت بہت خراب ہوئی ہوتی ہے.

شادی کے بعد: badshah ki kahani 

رانی اس کو پانی پلاتی ہے اور اس کے گھر کا سارا کام کرتی ہے. رانی ان سے پوچھتی ہے. کہ بابا اپ اس گھنے جنگل میں اکیلے کیا کر رہے ہیں . تو ارشد اسbadshah ki kahani بات پر سے مسکرا کر جواب دیتا ہے کہ میرا ایک بیٹا تھا جس سے میں بہت پیار کرتا تھا اور پھر میں نے اس کی شادی کی اور اس کی شادی کے بعد انہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا جس کی وجہ سے میں اس گھنے جنگل میں اکیلا ہی رہتا ہوں. اور وہ کبھی بھی مجھ سے ملنے نہیں ایا پھر ارشد اسے پوچھتا ہے. کہ بیٹا تم اس اس گھر میں جنگل میں تم کیا کر رہی ہو کہ تمہارے بھی کوئی ماں باپ نہیں ہے.

اللہ کا ساتھ دیا:

جو تمہیں یہاں پر چھوڑ گیا ہے. دوران مسکرا کر جواب دیتی ہے نہیں بابا میں نے صرف اپنے اللہ کا ساتھ دیا اور یہ بات شاید کسی کو برداشت نہیں ہوئی اور انہوں نے حکم دیا کہ ان جنگل میں چھوڑ دیا جائے لیکن میں افسوس زدہ نہیں ہوں کیونکہ میرا اللہ میرے ساتھ ہے. ارشد اس بات پر مسکراتا ہے. اور کہتا ہے کہ بیٹا اگر تم چاہو تو میرے ساتھ رہ سکتی ہو میں کلے ہی رہتا ہوں میں 15 دن کے لیے شہر جاتا ہوں کام کے لیے تو تم یہاں پر رہ لیا کرنا گھر میں ہر کھانے کا سامان پڑا ہوا ہے. اور اگر تمہیں پانی چاہیے ہو تو ساتھ والی نہر سے لے ایا کرنا

جنگل میں چھوڑ دیا: badshah ki kahani 

بادشاہ کے سپاہی رانی کوbadshah ki kahani جنگل میں چھوڑ دیتے ہیں. کیونکہ ان کے بادشاہ کا حکم تھا کہ بنانے کو ایک گھنے جنگل میں چھوڑ دیا جائے اور کوئی بھی اسے ملنے کے لیے نہ جائے وہ رانی کو لے جاتے ہیں اور ایک گنے جنگل میں چھوڑ دیتے ہیں. رانی دل ہی دل میں بہت پریشان ہوتی ہے لیکن اسے اپنی اللہ پر پورا یقین ہوتا ہے. رانی تھوڑا سا اگے بڑھتی ہے.

اللہ نے میری مدد:

badshah ki kahani
badshah ki kahani

اور رات ہو جاتی ہے وہ سوتی ہے کہ دنی جنگل میں میں اکیلی ہوں. مجھے لکڑیوں سے اگ جلانی چاہیے تاکہ کوئی جنگلی جانور میرے پاس نہ ائے رانی لکڑیاں ڈھونڈنے کے badshah ki kahani لیے تھوڑا سا اگے بڑھتے ہیں. تو وہاں اسے ایک جھونپڑی نظر اتی ہے رانی سوتی ہے کہ اس گھنے جنگل میں بھلا یہ کس کی جھونپڑی ہے. اور کون رہ رہا ہے دانے دل ہی دل میں بہت سے سوال پیدا کرتی ہے. لیکن وہ صحیح سوچتی ہے کہ شاید کوئی ایسا ہو یا شاید میری اللہ نے میری مدد کے لیے کوئی سبب لگایا ہو.

حالت بہت خراب:badshah ki kahani

اور مجھے اس جھونپڑی کے اندر جانا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ اس نے جنگل میں اس جھونپڑی کا کیا کام ہے اور اس میں کون رہ رہا ہے. دانی یہ سوچتی ہے.badshah ki kahani اور اسے جھونپڑی میں جاتی ہے. اور جب دیتی ہے کہ وہاں پہ ایک بزرگ ادمی جس کا نام اشرف تھا وہ پانی کو پکا رہا تھا. رانی اس کے پاس اتی ہے. اور اسے پانی پلاتی ہے اور دیتی ہے. کہ اس کے گھر کی حالت بہت خراب ہوئی ہوتی ہے. رانی اس کو پانی پلاتی ہے. اور اس کے گھر کا سارا کام کرتی ہے.

جنگل میں اکیلا:

رانی ان سے پوچھتی ہے کہ بابا اپ اس گھنے جنگل میں اکیلے کیا کر رہے ہیں. تو ارشد اس بات پر سے مسکرا کر جواب دیتا ہے. کہ میرا ایک بیٹا تھا. جس سے میں بہت پیار کرتا تھا. اور پھر میں نے اس کی شادی کی اور اس کی شادی کے بعد انہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا جس کی وجہ سے میں اس گھنے جنگل میں اکیلا ہی رہتا ہوں. اور وہ کبھی بھی مجھ سے ملنے نہیں ایا پھر ارشد اسے پوچھتا ہے.

برداشت badshah ki kahaniنہیں ہوئی:

کہ بیٹا تم اس اس گھر میں جنگل میں تم کیا کر رہی ہو. کہ تمہارے بھی کوئی ماں باپ نہیں ہے.جو تمہیں یہاں پر چھوڑ گیا ہے. دوران مسکرا کر جواب دیتی ہے. نہیں بابا میں نے صرف اپنے اللہ کا ساتھ دیا اور یہ بات شاید کسی کو برداشت نہیں ہوئی. اور انہوں نے حکم دیا کہ ان جنگل میںbadshah ki kahani چھوڑ دیا جائے. لیکن میں افسوس زدہ نہیں ہوں کیونکہ میرا اللہ میرے ساتھ ہے. ارشد اس بات پر مسکراتا ہے.

ارشد کے گھر:badshah ki kahani

badshah ki kahani
badshah ki kahani

اور کہتا ہے  رانی ایسا ہی کرتی ہے. وہ گھر کا سارا کام کرتی ہے اور پانی نہر سے بڑھ کر لے اتی ہےکہ بیٹا اگر تم چاہو تو میرے ساتھ رہ سکتی ہو میں کلے ہی رہتا ہوں میں. 15 دن کے لیے شہر جاتا ہوں. کام کے لیے تو تم یہاں پر رہ لیا کرنا گھر میں ہر کھانے کا سامان پڑا ہوا ہے. اور اگر iتمہیں پانی چاہیے ہو. تو ساتھ والی نہر سے لے ایا کرنا اور پھر اس طرح لانی ہے اس ارشد کے گھر میں ہی رہنے لگ جاتی ہے. پھر جب وہ رات کو ایک کپ دودھ پیتی ہے اور ایک کپ باہر رکھ دیتی ہے.

دودھ کے پیالے:badshah ki kahani

تاکہ کو جانور اسے پی لیں اور وہ ایسا ہی کرتی ہے. ایک کپ خود پیتی ہیں. اور ایک کپا ہی رکھ دیتی ہے. تاکہ کوئی جانور اسے پی لے ایک دن جب وہ اٹھتی ہے. badshah ki kahaniتو دیکھتی ہیں کہ دودھ کے پیالے کے پاس ایک نایاب ہیرا پڑا ہے رانی کے ذہن میں بہت سے خیال پیدا ہوتے ہیں. اور من ہی من میں بہت کچھ سوچتی ہے کہ یہ ہیرا بھلا ہے. اس گھر جنرل میں کس نے رکھا ہوگا.

غریبوں کے لیے ایک فیکٹری:

لیکن رانی نے سنا ہوا تھا کہ جب کوئی سانپ بھوکا ہوتا ہے. وہ اسے کچھ کھانے کو ملتا ہے. تو وہ خوش ہوتا ہے. تب وہ ایک نایاب ہیرا دیتا ہے. رانی روز ہی ایسا کرتی ہے. اور وہ شام دودھ پیتا ہے. اور کچھ نیا پھیرے اسے دے کر چلا جاتا ہے جب 15 دن کے   ارشد جاتا ہے اور کافی پیسے لے کر اتا ہے اس سے رانی جنگل میں ایک بہت بڑا محل بنواتی ہے. اور غریبوں کے لیے ایک فیکٹری بھی بنواتی ہے.

بادشاہ سوچتا ہے:

کے غریب لوگ بھی اس میں کام کر سکیںbadshah ki kahani اور اہستہ اہستہ رانی کے چرچے ہونے لگتے ہیں.ہر کوئی یہی کہتا ہے. کہ رانی بہت رحم دل ہے اور یہ بات بادشاہ تک پہنچ جاتی ہے. بادشاہ سوچتا ہے کہ کون ہے. جو مجھ سے بھی  زیادہ امیر ہے. اور میں اسے ملنا چاہتا ہوں بادشاہ کو یہ بات کافی دن تک حضرت نہیں ہوتی. اور وہ اس سے ملنے کا تو تصور رکھتا ہے. پھر ایک دن لانی ہے ایک بڑا جشن لگتی ہے.

ماشاءاللہ:

اور پھر بادشاہ بھی اس جشن میں اتا ہے. اپنی پانچوں بیٹیاں کو لے کر اور اس کے لیے ملاقات کرانی سے ہوتی ہے. لانی نے بہت خوبصورت لباس پہنا ہوتا ہے. اور ساتھ میں نقاب کیا ہوتا ہے. ماشاءاللہ انے کو دیکھتے ہیں. حرکت ہے کہ اج ہماری اپ سے ملاقات ہو گئی ہے. تو پھر اپ badshah ki kahaniکا یہ نقاب کیسا اپ اسے اتار کر ائیں ہمیں بھی اپ سے ملنا ہے. رانی جاتی ہے اور ایک خستہ لباس پہن کے رہتی ہے.

badshah ki kahani رانی نے قید کیا:

جس سے راجہ نے اسے اس کے گھر سے نکالا ہوتا ہے باش جب اسے دیکھتے ہیں. تو دیکھ کے خوش ہوتا ہے کہ میری بیٹی اتنی دیر بعد مجھے ملی ہے. تو وہ اسے کہتا ہے badshah ki kahani .کہ اگر تمہیں رانی نے قید کیا ہے تو میں تمہیں یہاں سے لے جاتا ہوں. میری نانی سے ملاقات کرواؤ اس پر انے کہتے ہیں کہ نہیں بابا جی میں ہی ہوں. جسے اپ نے گھر سے نکالا تھا مشہ کہتا ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے.

اللہ ہی دیتا ہے:

ابھی تو ایک رانی نہیں تھی اور ابھی تم ائی ہو وہ کہتی ہیں. کہ یہ میرا ہی محل ہے اور میں ہی یہاں کی رانی ہوں. میں اس لیے ایسا لباس پہن کرائیں کیونکہ اپ نے مجھے اسی لباس سے گھر سے نکلنا تھا اپ نے کہا تھا کہ ہمیں کھانے کے لیے صرف اپ دیتے ہیں اور دیکھیں کہ مجھے کھانے کے لیے سے اس میں اللہ ہی دیتا ہے.  ماشاءاللہ یہ بات سنتا ہے کہتا ہے.

بہت بڑی غلطی:

کہ یہ تم اس مقام پر کیسے پہنچی پھر رانی ہے badshah ki kahani اپنے بابا کا سارا واقعہ بتاتی ہیں. اور اس پر اجا بہت شرمندہ ہوتا ہے اور اپنی بیٹی سے معافی مانگتا ہے. اور بہت شرمندہ حت کہتا ہے .کہ بیٹی مجھے معاف کردہ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے. میں اپنی انا میں ا کر پتہ نہیں کیا کر بیٹھا اور اس پر پھر انی اسے معاف کر دیتی ہے.

ایک بزرگ ملا:

بادشاہ کا اپنے بیٹے سے ملنا اصل میں بادشاہ کے وظیفے کا عمل تھا کیونکہ جب باشوق اپنے غلطی کا احساس ہوا تو باشر ہوتے ہوئے. اپنی محض سے نکلا اور ایک جنگل میں پہنچا وہاں پر اس کو ایک بزرگ ملا اس نے بتایا کہ تم کیوں رو رہے ہو بادشاہ نے کہا کہ میری بیٹی مجھ سے دور ہو گئی ہے.

انشاءاللہ: badshah ki kahani 

پھر اس نے کہا کہ تم پریشان نہ ہو تو تم یہ عمل کرو اور یہ وظیفہ میں تمہاری بیٹی مل جائے گی. پھر وہ باشاہ کو ایک منصب بتاتا ہے. اور وہ کہتے ہیں کہ یا ودودو یا صبح 621 دفعہ رات کو سونے سے پہلے اس بات کا تصور کر کے سونا انشاءاللہ تمہیں تمہاری بیٹی مل جائے گی.

جنگل  badshah ki kahani میں پہنچا:

بادشاہ کا اپنے بیٹے سے ملنا اصل میں بادشاہ کے وظیفے کا عمل تھا کیونکہ جب باشوق اپنے غلطی کا احساس ہوا تو باشر ہوتے ہوئے.اپنی محض سے نکلا اور ایک جنگل میں پہنچا وہاں پر اس کو ایک بزرگ ملا اس نے بتایا کہ تم کیوں رو رہے ہو بادشاہ نے کہا کہ میری بیٹی مجھ سے دور ہو گئی ہے.

رات کو سونے سے پہلے:

پھر اس نے کہا کہ تم پریشان badshah ki kahaniنہ ہو تو تم یہ عمل کرو اور یہ وظیفہ میں تمہاری بیٹی مل جائے گی. پھر وہ باشاہ کو ایک منصب بتاتا ہے. اور وہ کہتے ہیں کہ یا ودودو یا صبح 621 دفعہ رات کو سونے سے پہلے اس بات کا تصور کر کے سونا انشاءاللہ تمہیں تمہاری بیٹی مل جائے گی.

badshah ki kahaniاللہ پر یقین رکھ:

badshah ki kahani
badshah ki kahani

بادشاہ کا اس کی بیٹی سے ملنا اصل میں بادشاہ کے وظیفے کا عمل میں انا تھا کیونکہ بادشاہ نے وہ وظیفہ سچے دل سے کیا تھا اس لیے اس کو اس کی بیٹی مل گئی یہ وظیفہ جب بھی کریں سے جو دل سے کریں اللہ پر یقین رکھ کر کریں گے انشاءاللہ اپ کا بھی کام ضرور ہوگا.

Leave a Comment